پاکستان

علاقائی نیوز

بین الاقوامی

کالم

سپورٹس

حالیہ ٹارگٹ کلنگ نے کراچی آپریشن کی قلعی کھول دی

کراچی(اے این ایف نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماءشاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حالیہ ٹارگٹ کلنگ نے کراچی آپریشن کی قلعی کھول دی ہے، شہر میں ایک ساتھ ہی عباس کمیلی کے بیٹے علی اکبر کمیلی ، حیدر عباس رضوی کے کوآرڈینیٹر اورمفتی نعیم کے بیٹے کو نشانہ بنایا گیا، ہمیں کراچی کے حالات پر شدید تشویش ہے کیونکہ اگر کراچی میں کچھ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے ملک میں نظر آتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ احتجاج کرناہمارا حق ہے، سپریم کورٹ نے یہ حق تسلیم کیا ہے لیکن وہاں ہمارے گرد پولیس کو لاٹھیاں دے کر بٹھایا گیاہے، ایک طرف اسحاق ڈار ہمارے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تو دوسری جانب ملک بھر میں ہمارے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا، ہمارے ’ڈی جے بٹ‘تک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، حکومت نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے کوئی ڈیم بنایا ہوتا، کوئی انتظامات کئے ہوتے تو آ ج یہی پانی ہمارے لئے رحمت بن جاتا، اور پورے ملک میں کوئی نقصان نہ ہوتا مگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں نے ہی اس ضمن میں کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد دھرنے سے فارغ ہو کر عمران خان سندھ اور کراچی کا دورہ کریں گے۔

سندھ میں محکمہ تعلیم کے اساتذہ طویل عرصے تک تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج

کراچی(اے این ایف نیوز)سندھ میں محکمہ تعلیم کے اساتذہ طویل عرصے تک تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج پر ہیں، اور اس ضمن میں کراچی میں ان کا بلاول چورنگی پر احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے۔ اسی دوران سندھ کے وزیر قانون نثار کھوڑو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے یہ اساتذہ جعلی ہیں جن کو 2012میں غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے کہا ہے کہ وزیر تعلیم نثار کھوڑو کو کسی نے غلط بریف کیا ہے، یہ تمام اساتذہ ان کے دور میں قانونی طریقہ کار سے بھرتی کئے گئے اور ان کی تعیناتی میں میرٹ کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی بیوروکریسی کے لوگ معاملات میں پیچیدگیاں پیدا کرتے رہے ہیں۔

میرپوخاص پولیس کا کارنامہ دو روز قبل گرفتار ہونے والے جوابداروں کو انکاؤنٹر ظاہر کرکے ھلاک کردیا

میرپورخاص (اے این ایف نیوز) میرپوخاص پولیس کا کارنامہ دو روز قبل گرفتار ہونے والے جوابداروں کو انکاؤنٹر ظاہر کرکے ھلاک کردیا۔ پولیس کمپلیکس میرپورخاص میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس میرپورخاص محمد امین یوسفزئی ، ایس ایس پی میرپورخاص جام ظفراللہ دھاریجواور ایس ایس پی عمرکوٹ عبدالقیوم پتافی نے بتایا کہ بدنامِ زمانہ ڈکیت اللہ اوبھایو نہڑی ولد مبین نہڑی جو کہ اصل تعلقہ مسن ضلع ٹنڈوالہیار کا ہے اور ضلع عمرکوٹ میں رہائش پذیر تھا اور قتل ،اقدام قتل،اغواء برائے تاوان،ڈکیتی ،رہزنی،پولیس مقابلے اوردیگر سنگین وارداتوں میں میرپورخاص پولیس کے علاوہ سانگھڑ،عمرکوٹ ،بدین،ٹنڈومحمد خان،ٹنڈوالہیاراور حیدرآباداضلاع کی پولیس کو مطلوب تھااور متعدد سنگین کیسوں میں اشتہاری اور روپوش تھا ۔ آج 9ستمبرکو نوکوٹ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ بدنامِ زمانہ ڈکیٹ اللہ اوبھایو نہڑی اپنے دیگر ساتھیوں سمیت نوکوٹ سے تقریبا 11،12کلومیٹر دور ایک سنسان علاقہ میں کسی بڑ ی سنگین واردات کے ارادے سے موجود ہے ۔اس اطلاع پر میرپورخاص پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کیا اور مدد کے لیے مزید پولیس فورس میرپورخاص اور عمرکوٹ ضلعے سے طلب کی جیسے ہی پولیس علاقے میں داخل ہوئی ڈکیت اوبھایو اور اس کے ساتھیوں نے پولیس کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کری ۔ڈکیتو ں کے ساتھ مقابلہ رات کو 12:30بجے شروع ہو کر تقریبا آدھا گھنٹہ جاری رہا اور مقابلے کے دوران ڈکیت اللہ اوبھایو اپنے ساتھی کے ہمراہ مارا گیا جبکہ دیگر 2ساتھی ڈکیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ان ڈاکوؤں سے برآمد ہونیوالا اسلحہ بشمول کلاشنکوف ،پسٹل اور بھاری تعداد میں ایمونیشن پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔واضع رہے کہ ڈکیت اللہ اوبھایو نہڑی کی گرفتاری پر سندھ حکومت کو 1000000/=(دس لاکھ) ہیڈ منی کیلئے بھی سفارش کی گئی تھی۔دوسری جانب 31 جولائی 2014 کو عمرکوٹ شہر میں قتل ہونے و الے دو تاجر بھائیوں ھیرا لعل اور اشوک کمار قتل کے میں فریادی سریش کمار نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ نوکوٹ میں قتل ہونے والے پولیس انکاؤنٹر میں ڈاکو سابق پولیس اھلکار اوبھایو نہڑی اور عمر منگریو کو انکے بھائیوں کے قتل کے کیس میں ملانے کی کوشش کی گئی ہے وہ ان سے مطمن نہیں ہیں، اور گزرشتہ ڈیڈھ ماھ سے جاری تفشیش میں انکے بھائیوں کے قتل کے کیس میں ابھایو نہڑی کی کہیں پر بھی ملوث ہونے کی نشاندھی نہیں ہوئی ہے۔ اور ابھایو نہڑی کو عمرکوٹ میں ہر ایک آدمی جانتا ہے او ر آنکہوں دیکھے شاھد نے ابھایو نہڑی کی نشاندھی نہیں کی ہے ، انہوں نے کہا کہ پولیس اگر ابھایو نہڑی اور انکے ساتھی کو ھلاک کرکے انکے بھائیوں کے قتل کے کیس میں ملوث کرے گی تو وہ بے گناھ قتل ہونے والے بھائیوں کے کیس کو خراب کرنے اور ایس ایس پی عمرکوٹ کو بچانے کی کو شش ہوگی۔ زرائع کے مطابق ابھایو نہڑی اصل ضلع تھرپارکر کے علائقے چھاچھرو کے گوگاسر کا رہائشی ہے اور سابق پولیس اھلکار بھی ہے جس کو پریس کانفرنس میں ٹنڈو الہیار کا کہا گیا ہے اور اوبھایو نہڑی کو میرپورخاص کے علائقے مہران کالونی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسری جانب نوکوٹ اسپتال سے نعش وصول کرنے کے لئے انکے وارثاء بھی پہچ گئے جہاں پر مقتول عمر لغاری کے کزن اشرف لغاری نے بتایا کہ مقتول عمر لغاری کے خلاف کہیں پر کوئی بھی کیس داخل نہیں ہے اور وہ زمیدار ہے میرپورخاص کے قریب گاؤں گل محمد رند میں انکی زمین ہے اور انکے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ جبکہ مقتول ابھایو نہڑی کے چچا عباس نہڑی نے بتایا کہ انکا بھتیجے کو پولیس نے غلط مارا ہے اور اسے گرفتار کرنے کے بعد جالی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے کے کے خلاف وہ قانونی کاروائی کرینگے۔ دوسری جانب پولیس نے حسب روایت اس کیس کو انکاؤنٹر ظاہر کیا ہے جس پر عوامی حلقے کا کہنا ہے کہ ڈاکوں اور جرائم پیشہ افراد خا خاتمہ ضروری ہے لیکن کسی بھی شخص کو اپنی منشا اور اپنی مرضی سے ماورائے عدالت قتل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے عوامی حلقے نے اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اگر یہ جعلی مقابلہ ثابت ہوتا ہے تو جعلی پریس کانفرنس کرکے عوام کی آنکہوں میں دھول پہیکنے پر پولیس افسران اور اھلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسسری جانب پاکستان تحریک انصاف سے تلعق رکھنے والے ایم این اے اور اقلیتی رھنماء لعل مالہی نے عمرکوٹ میں ھنگامی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ میرپورخاص اور عمرکوٹ پولیس کے ایس ایس پی نے پریس کانفرنس میں اوبھایو نہڑی کو دو ھندو بھائیو ں کے قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کرے قتل کیس خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور پولیس نے تین روز پہلے میرپورخاص سے ابھایو نہڑی اور عمر لغاری کو گرفتار کیا تھا اور جعلی انکاؤنٹر میں انکو قتل کیا گیا ہے اور انکے قتل کیس کو دو ھندو بھائیوں کے قتل کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کو ھم رد کرتے ہیں 

پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق نیول ڈاکیارڈ پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنادیا

کراچی(اے این ایف نیوز) پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق نیول ڈاکیارڈ پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنادیاگیا جب کہ دوطرفہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 حملہ  آور ہلاک اور ایک افسر نے  جام شہادت نوش کیا۔پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق ہفتے کی شب نامعلوم حملہ آوروں نے جدید اسلحہ سے لیس ہو کر نیوی ڈاکیارڈ پر حملہ کردیا اور نیوی ڈاکیارڈ میں داخلے کی کوشش کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی، دوطرفہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 حملہ آور ہلاک جبکہ 4 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ دہشت گردوں کے خلاف ہمت و بہادری سے لڑتے ہوئے ایک افسر نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 6 جوان زخمی بھی ہوئے۔ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کی جانب سے نماز فجر کے وقت نیوی ڈاکیارڈ میں لنگر انداز بحری جہاز پر حملہ کیا گیا اور دہشتگردوں کی جانب سے بھرپور فائرنگ کی گئی جبکہ ایس ایس جیز کمانڈوز نے 2 گھنٹے میں دہشگردوں پر قابو پالیا تھا تاہم 8 گھنٹے میں آپریشن مکمل کر کے  بحری جہاز کو کلئیر کردیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے پاس بڑی تعداد میں ہینڈ گرینیڈ اور کلاشنکوفیں تھیں اور حملہ کراچی ایئرپورٹ اور مہران بیس حملے کی طرز کا تھا جس میں پہلے ہینڈ گرینیڈ اور پھر فائرنگ کرتے ہوئے دہشتگردوں نے اپنے ہدف کی جانب پہنچنے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے ماضی میں بھی پاک فوج اور فضائیہ کی اہم عمارتوں پر حملے کئے گئے اور اسی قسم کی ایک کوشش نیوی ڈاکیارڈ پر کی گئی جسے جواں مردی سے لڑتے ہوئے نیوی کے جوانوں نے ناکام بنا دی۔

آزادی وانقلاب مارچ کے نتیجے میں جمہوریت اور آئین کا خاتمہ نہ ہو


کراچی(اے این ایف نیوز) امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت بحران سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے لیکن حالات مایوسی کی طرف جارہے ہیں۔
سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کے بعد بلاول ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کی جانب سے سیاسی جرگے کو اپنے مطالبات پیش کردیئے گئے ہیں جو ہم نے حکومت تک پہنچا دیئے اور حکومت کی جانب سے بھی اس پر جواب دیا گیا ہے، دونوں جماعتوں کا آخری نکتہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم نوازشریف کا استعفیٰ ہے جس کے لیے متبادل تجویز پیش کی ہے اور ایسا راستہ نکال رہے ہیں جس میں تمام فریقین کو راضی کرلیا جائے۔
سراج الحق نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آزادی وانقلاب مارچ کے نتیجے میں جمہوریت اور آئین کا خاتمہ ہو اور یہ بھی نہیں چاہتے کہ فریقین کے درمیان پھر سے ڈیڈلاک پیدا ہو اورمسئلہ جوں کا توں رہ جائے کیونکہ اس بحران کےباعث قوم ہیجان کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بحرانوں کا شکار اور اسمبلی میں سیاسی تناؤ کی کیفیت ہے جبکہ سیاسی قیادت بحران سے نکلنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے لیکن حالات مایوسی کی طرف جارہے ہیں۔

بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ

کراچی(اے این ایف نیوز) بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے باعث علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔  بلاول ہاؤس چورنگی پر واقع ہوٹل کے قریب ڈبل کیبن  گاڑی میں موجود نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں علاقے میں بھگدڑ مچ گئی ، فائرنگ کے باعث وہاں  موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جب کہ اطراف میں واقع مارکیٹ بھی فوری طور پربند کردی گئی۔بلاول ہاؤس کے قریب مسلح افراد کی  فائرنگ کے وقت وہاں تعینات پولیس کی نفری نے انہیں روکنے کے لئے کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی  جس کے باعث  ملزمان باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم واقعے کےبعد پولیس اوررینجرز کی مزید نفری کو علاقے میں طلب کرکے سکیورٹی  مزید سخت کردی گئی ہے جبکہ علاقے سے گولیوں کے کئی خول بھی ملے ہیں۔
واضح رہے کہ جس وقت علاقے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اس وقت بلاول ہاؤس میں سراج الحق کی قیادت میں سیاسی رہنماؤں پر مشتمل جرگہ سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کے لئے موجود تھا جس کی وجہ سے بھی بلاول ہاؤس کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

Top